بھٹکل:10/نومبر (ایس او نیوز) 500اور1000روپئے کے نوٹوں کو مرکزی حکومت نے کالعدم قرار دے کر 2دن گزرنے کے بعد بھی عوام کی پریشانیوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ تعلقہ کے تمام بینکوں کے باہر ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی قطار لگی ہوئی ہے۔
بھٹکل کے تمام بینکوں کے لئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اسی بینک سے تمام بینکوں کو روپیوں کی تقسیم ہوتی ہے، ریزرو بینک آف انڈیا بنگلورو نے پہلی قسط کے طورپر 40کروڑ روپئے کے نئے نوٹ بھٹکل کے لئے فراہم کئے ہیں، نوٹوں کی گنتی کے لئے 3لوگ نامزد کئے گئے ہیں۔ زبردست سکیورٹی کے ساتھ مشین کے ذریعے نوٹوں کی گنتی ہورہی ہے، ایس بی آئی کے جنرل مینجر نلیش نے بتایا کہ گنتی کا کام ختم ہوتے ہی نوٹو ں کی تقسیم کاری کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اس درمیان گاہک اپنی تمام مصروفیات کے ساتھ بینکوں کا چکر کاٹ رہے ہیں، شناختی کارڈ تھامے کم سے کم 4000 روپئے حاصل کرنےکے لئے جدوجہد جاری ہے۔شادی بیاہ ، مذہبی اور دیگر تقریبات کے لئے نوٹوں کی تبدیلی رکاوٹ بن گئی ہے۔ گھر کے اخراجات کے لئے رشتہ داروں سے مدد لی جارہی ہے، تمام بینکوں نے زیادہ تر رقم ڈپازٹ کو ترجیح دیتے ہوئے دیکھے گئے۔ بغیر کسی پیشگی اعلان کے لئے اچانک نوٹوں کو کالعدم قرار دینےسے 100اور 50روپئے کے نوٹ ملنا اور سب کو تقسیم کرنا ناممکن سا ہوگیا ہے۔ سیکڑوں لوگ پوسٹ آفس پر بھی دیکھے گئے۔ جمعرات کی رات 8بجے نوٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے امکانا ت ہیں۔ حالات پر ایس بی آئی کے جنرل مینجر نے کہاکہ سب سےپہلا کام نوٹوں کی گنتی ہے، گنتی ختم ہوتے ہی تقسیم کاری ہوگی ، جمعرات کی شام تک ہوسکتاہے، اگر نہیں تو جمعہ کی صبح میں تمام بینکوں کو نوٹ مہیا کئے جائیں گے۔ اس سے قبل ہی نوٹوں کی مانگ کی جاتی ہے تو کچھ بھی ممکن نہیں ہوگا۔